بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛
وکٹوریا یا وکٹری ہوائی اڈہ عراق میں امریکی قبضے کی علامت بن گیا تھا اور 22 سال بعد ـ سفارتکاری کے ذریعے نہیں بلکہ عراقی مجاہدین کے حملوں کے بعد ـ قابض فوج سے خالی ہو گیا۔ عراقی مجاہدین نے امریکیوں کو پانچ روزہ الٹی میٹم دیا تھا کہ اڈے کو خالی کریں اور واشنگٹن کو بدھ کے روز ان کے اردن کی طرف انخلاء کے عمل کو قبول کرنا پڑا۔ اس اڈے کے فضائی اور میزائل دفاعی نظام کو ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے ناکارہ کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ نیٹو فورسز بھی ـ اس سے چند پہلے ـ باضابطہ طور پر عراق سے بھاگ کر یورپ منتقل ہو گئی تھیں۔
اس انخلاء کے ساتھ اسلامی جمہوریہ کی یہ حکمت عملی کامیاب ہوئی کہ عراق کو ایران کے خلاف امریکی جارحیت کا اڈہ نہیں بننا چاہئے اور محور مقاومت نے بالآخر دو عشروں کے جہاد کے بعد ایک عالمی بڑی طاقت کو اپنی سرزمین میں شکست دے دی۔
مقاومت عراق کی ایک تحریک "اولیاء الدم بریگیڈز" (سرایا اولیاء الدم) کے ترجمان ابو مہدی الجعفری نے کہا: نیٹو اور امریکی فورسز وکٹوریا اڈے سے، زمینی اور ہوائی راستوں سے، اردن کی طرف مکمل طور پسپا ہو گئی ہیں۔ ہم پھر بھی انہیں 'رمیِ جمرات' (کنکریاں مار کر) نکال باہر کریں گے، البتہ یہ کنکریاں اب پتھر کی نہیں ہونگی بلکہ ڈرونز کی صورت میں ہونگی، کیونکہ یہ بڑے شیطان ہیں۔
عراقی مقاومت ـ جہد مسلسل، انتھک کوشش، جہاد اور قربانی کے ذریعے ـ شہیدوں اور زخمیوں کی قربانی دے کر ـ منزل مقصود تک پہنچی ہے۔ یقینا امریکی عراق میں واپسی کی کوشش کریں گے چنانچہ مقاومت اسلامی کے مجاہدین ان کے لئے گھات میں بیٹھے رہیں گے اور ان کی انگلیاں ٹریگر پر ہیں۔
رہبر شہید امام سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) نے فرمایا: "مقاومت کی قیمت بھاری ہے لیکن سازباز اور ہتھیار ڈالنے کی قیمت بہت زیادہ [اور ناقابل برداشت] ہے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مصطفی علی جان زاده
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ